Sunday, January 5, 2014

٢٠١٣ کا نوحہ










دشتِ ظلمت میں دفن یاد کا گریہ سن کر
دل سہم جاتے ہیں تھم جاتی ہے دل کی دھڑکن
سانس سینے میں دبک جاتی ہے دم لینے کو
آس کے گمنام مزاروں کی سعی کرتے ہوےپیار کے آسیب
اپنے قدموں سے الجھتے ہیں، بھٹک جاتے ہیں
طیش میں چنگھاڑتے ہیں ٹوٹے ہوۓ خوابوں کے نقوش
انگلیاں کانوں میں دھنس جاتی ہیں نوحوں کے خلاف


اِک تو ایامِ گزشتہ سے کثیف، اُس پہ اذیت سے لدا
یہ گیا سال کئی جسم کُچل کر گزرا
آنکھ کے پانی سے تر اور نمک سے بوجھل
ہر نیا لمحۂ کوئی جان مسل کر گزرا
اور وقت پابندِ تغیروتواتر ہی رہا



یاد کے کَتبوں سے کمر ٹیک کے چُپ بیٹھا ہے
انگنت رشتوں کا شکست خوردہ ومایوس ہُجوم
اب بہار آۓ تو شاید یہ سمجھ آ جاۓ
خاک کے تابوت کو نیچے سے تھپکنے والے
خار ہیں، گل ہیں، شبیہیں ہیں یا بس خواب و خیال
ہاں ذرا دھیان کرو، اب جو کوئی مر جاےُ
تھور اُگتا ہے قبر پہ یا کہ نِکلیں گے گُلاب
 گھر کی دیوار پہ آویزاں گھڑی کے اندر
منہ کے بل لیٹے ہوے لمحوں کا کاہل گرداب
لاتعلق، سرد مہر، اُونگھتا گرداب


اس سے دُور ہٹ کے چلو،
رہنے دو اسے محوِ تصورِ خواب و خراباتِ ایام
اور کہیں دُور چھُپا دو رہِ منزل کے چراغ
اپنے لہجے میں ناکردہ گناہوں کا مداوہ بھر لو
گو کہ ہے فرد یہاں تابعِ حبسِ اَبد،
اور ہرحلقہ بگوش مُنتظرِ حُکم بہ مرگ
پھر بھی ماتھے کو فراخ، دل کو مزین کر لو
دشت ظلمت میں دفن یاد کا گریہ سن کر
اپنے سینے کو کڑا، آنکھ کو پتھر کر لو

صالحہ